بنگلورو30؍ستمبر(ایس او نیوز)کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں آج سپریم کورٹ کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کو ناانصافیوں کا پلندہ قرار دیتے ہوئے ریاست کی کنڑا تنظیموں نے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف 3؍ اکتوبرکو یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کنڑا نواز تنظیموں کے لیڈران واٹال ناگراج، ساراگووند اور دیگر نے کہاکہ کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے اپنی جانبداری کا پھر کھل کر مظاہرہ کیا ہے۔ ایسے مرحلے میں جبکہ دریائے کاویری میں پانی بالکل میسر نہیں ہے، تملناڈو کو مزید 36ہزار کیوسک پانی فراہم کرنے کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کو ان قائدین نے کرناٹک کے حق میں موت کا فرمان قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ریاستی عوام کی طرف سے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیاجائے گا اور 3؍ اکتوبر کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف یوم سیاہ منایا جائے گا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے بھی مرکزی حکومت سے یہی کہا ہے کہ 3؍ اکتوبر تک کاویری نگرانی بورڈ تشکیل دے دی جائے، جس پر مرکزی حکومت نے آمادگی ظاہر کردی ہے۔ کنڑا تنظیموں کے لیڈران کاویری نگرانی بورڈ کے قیام کیلئے مرکزی حکومت کی آمادگی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ عدالت کے اس فیصلے سے ہر بار کی طرح اس بار بھی ریاست کے عوام کو مایوسی ہوئی ہے۔ عوام کے ساتھ مسلسل ناانصافی کواب برداشت نہیں کیاجاسکتا ۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی حال میں کاویری نگرانی بورڈ کی تشکیل کو وہ تسلیم نہ کرے اور ساتھ ہی دریائے کاویری سے تملناڈو کو ایک قطرہ پانی بھی مہیا نہ کرایا جائے ۔ اس اخباری کانفرنس میں مختلف کنڑا نواز تنظیموں کے قائدین نے حصہ لیا۔